Rail locomotive on the “Turkish Railway” of Medina for 100 years!

By | May 4, 2022

سو سال سے مدینہ منورہ کے “ترکی ریلوے اسٹیشن” پر کھڑا ریل کا انجن! یہ سو سال سے کیوں کھڑا ہے؟

Rail locomotive on the “Turkish Railway” of Medina for 100 years! Why has it been a hundred years?

خلافت عثمانیہ کے 34 ویں خلیفہ عبدالحمید ثانی اپنے وقت کے بہت بڑے شاعر اور عاشق رسولﷺ گزرے ہیں…آپ کے دورِ خلافت میں استنبول سے مدینہ شریف جانے کے لئے ٹرین سروس شروع کی گئی…. آج بھی وہ ریلوے لائن مدینہ شریف میں بچھی ھوئی ھے۔ اور ترکی ریلوےاسٹیشن کے نام سے مشہور ھے….

Abdul Hameed II, the 34th Caliph of the Ottoman Caliphate, is a great poet and lover of the Prophet of his time. Even today that railway line is lying in Madina Sharif. And Turkey is known as the railway station.

اُس زمانے میں ٹرین کا انجن کوئلے سے چلتا تھا، مکمل تیاریاں ھونے کے بعد مدینہ شریف میں “ترکی اسٹیشن” پر سلطان عبدالحمید ثانی کو افتتاح کیلیے بلایا گیا تو سلطان نے دیکھا کہ کوئلہ والا انجن بھڑ بھڑ آوازیں نکال رہا ھے۔ تو سلطان عبدالحمید غضبناک ھوگئے۔ اور کچرا اٹھا کر انجن کو مارنا شروع کر دیا۔
اور کہا۔
حضور ﷺ کے شہر میں اتنی تیز آواز تیری….؟

At that time, the engine of the train was powered by coal. After all the preparations, Sultan Abdul Hamid II was called for the inauguration at the “Turkish Station” in Madinah. So Sultan Abdul Hameed became angry. And picked up the garbage and started hitting the engine.

And said
Your voice so loud in the city of the Holy Prophet?

ادب گاہسیت زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنیدؓ و بایزیدؓ اینجا

Literature under the sky is more delicate than the throne
The soul that has been lost comes to Junaid and Bayazid

تقریباؔؔ 100 سال کا عرصہ ھونے کو آیا، اس وقت جو انجن بند ھوا تھا۔ وہ آج بھی ایسے ھی مدینہ شریف میں رکھا ھوا ھے.جو ترکی اسٹیشن کے نام سے مشہور ھے،اس قدر ادب کہ وہ انجن کی بلند آواز کو بھی شہرِ رسولﷺ میں پسند نہیں کرتے تھےتو سوچوکہ وہ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتے ھوں گے..!!

It’s been almost 100 years since the engine shut down. He is still kept in Madinah Sharif, which is known as Turkish station, so much literature that he did not even like the loud sound of the engine in the city of Rasulullah, so think how much he would love his beloved. .. !!

یہ عشق تھا۔ یہ ادب تھا۔ جو ان کے سینوں میں موجزن تھا، اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا عشق و ادب اور شہر رسولﷺ کی باادب حاضری نصیب کرے..۔۔۔۔ امین یا رب العالمین

It was love It was literature. May Allah Almighty bless us with such love and literature and the presence of the city of the Holy Prophet … Ameen

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *